31 جولائی 2016 - 09:28
شیخ عیسی قاسم کی حمایت میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے احتجاجی اقدامات کی تفصیلات

حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے بحرین کے مسائل کے سلسلے میں کئے گئے احتجاجی اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم بحرین کے حالیہ حالات، شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی اور انہیں عدالت میں حاضر کئے جانے کے بارے میں ہم نے قم اور نجف کے مراجع، مختلف ممالک کے سیاسی اداروں اور اہم شخصیات منجملہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھ کر بحرین کے موجودہ حالات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین کے عوام پر جاری آل خلیفہ حکومت کے ناجائز دباؤ کے بعد علمائے قم کے ایک وفد نے عراق میں سفر کر کے اس ملک کے علماء اور سیاسی شخصیات سے ملاقات اور گفتگو کی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے عراق میں علماء حضرات مخصوصا آیت اللہ العظمیٰ سیستانی سے ہوئی اپنی ملاقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: شیخ عیسی قاسم کو عدالت میں حاضر کئے جانے کے اعلان کے بعد آپ کی حمایت میں جاری گھر کے باہر لوگوں کے ہجوم سے ہمیں یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ ممکن ہے کہ حکومت لوگوں پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچائے لہذا ہم نے یہ ضروری سمجھا ہے کہ کوئی ایسا اقدام کریں جس سے مسئلہ کا راہ حل نکالا جائے۔ اسمبلی کی اعلی کونسل نے طے کیا کہ علماء کا ایک وفد عراق جا کر عراق کے بزرگ علماء مخصوصا آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کرے۔
انہوں نے مزید کہا: اس وفد میں آیت اللہ تسخیری، آیت اللہ سید احمد خاتمی، حجۃ الاسلام و المسلمین نواب اور ہم شامل تھے جنہوں نے آیت اللہ سیستانی اور عراق کی سیاسی شخصیات سے ملاقات کی۔عراق میں اس وفد کے سفر کا مقصد بحرین کے مظلوم عوام کی آواز پر لبیک کہنا اور ان کے لیے کوئی مناسب راہ حل تلاش کرنا ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے مزید کہا: مختلف ممالک میں شیعوں کی حمایت کے سلسلے میں جو اسمبلی کی شرعی ذمہ داری ہے اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسمبلی نے یہ اقدام کیا ہے۔
انہوں نے کہا: ہم مختلف اسلامی ممالک منجملہ بحرین، پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور نائیجیریا کے شیعوں کی حمایت میں کوشاں ہیں چونکہ جب دیکھنے کو ملتا ہے کہ اہل بیت(ع) کے پیروکار دنیا کے کونے کونے مورد ظلم و ستم واقع ہو رہے ہیں تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مختلف بین الاقوامی اداروں سے تبادلہ خیال کریں اور احتجاجی کاروائیاں کریں۔
بان کی مون سمیت انسانی حقوق کے مختلف اداروں کو لکھا خط
حجۃ الاسلام و المسلمین اختری نے بحرین کے مسائل کے سلسلے میں کئے گئے احتجاجی اقدامات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم بحرین کے حالیہ حالات، شیخ عیسی قاسم کی شہریت کی منسوخی اور انہیں عدالت میں حاضر کئے جانے کے بارے میں ہم نے قم اور نجف کے مراجع، مختلف ممالک کے سیاسی اداروں اور اہم شخصیات منجملہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھ کر بحرین کے موجودہ حالات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اپنے طور پر بحرینی حکومت پر دباؤ ڈالیں اور اسے عوام کے ساتھ اس طرح کے ناجائز اقدامات کرنے سے روکیں۔
انہوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت، امریکہ، اسرائیل اور آل سعود کی حمایت میں اپنے ملک کے عوام کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے اور ان پر ظلم و ستم روا رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اگر مغربی ممالک میں کوئی شخص جاسوسی کے جرم میں بھی جیل ڈال دیا جائے یا قتل کے جرم میں پکڑا جائے تو مغربی دنیا چلا اٹھتی ہے جبکہ بحرین میں بغیر کسی جرم کے لوگوں کو جیلوں میں بند جا رہا ہے اور کسی کے منہ سے سوں بھی نہیں نکلتا۔
انہوں نے کہا یہی مغربی ممالک شام میں قانونی حکومت کے مقابلے میں لڑنے والے دھشتگردوں کی حمایت کرتے ہیں لیکن بحرین میں جب حکومت لوگوں پر ظلم کرتی ہے تو کوئی ان کی فریاد کو نہیں پہنچتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲